محل سرا

قسم کلام: اسم ظرف مکان ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - بادشاہوں، نوابوں اور رئیسوں کا زنان خانہ، حرم سرا؛ محل۔ "انہوں نے بے شمار عورتیں محل سرا میں داخل کیں۔"      ( ١٩٩٤ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٧٤ ) ٢ - زنانہ مکان کی پاسبان، محل دار۔ "خادمائیں اور محل سرا رکھنے کی روایت ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ١٦١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'محل' کے بعد فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'سرا' لگانے سے مرکب 'محل سرا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٧٤ء کو "مجالس النساء" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بادشاہوں، نوابوں اور رئیسوں کا زنان خانہ، حرم سرا؛ محل۔ "انہوں نے بے شمار عورتیں محل سرا میں داخل کیں۔"      ( ١٩٩٤ء، صحیفہ، لاہور، جولائی تا ستمبر، ٧٤ ) ٢ - زنانہ مکان کی پاسبان، محل دار۔ "خادمائیں اور محل سرا رکھنے کی روایت ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ١٦١ )